سپریم کورٹ نے پاکستانی خاتون سے شادی کرنے والے ایک افغان شہری کی 20 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔

سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کو فارن ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا کیونکہ اس کے پاس پاکستانی خاتون سے شادی کا نکاح نامہ موجود نہیں تھا۔ ان کے مطابق نکاح نامہ 2024 میں تیار کیا گیا، جبکہ ملزم کے پاس پاکستان آمد کا کوئی ثبوت یا افغان پاسپورٹ بھی موجود نہیں۔

ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شادی 1993 میں ہوئی تھی، تاہم اس وقت دیہی علاقوں میں نکاح نامہ بنوانے کا رواج عام نہیں تھا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دیہاتوں میں ہر شادی کا نکاح نامہ نہیں بنایا جاتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب دو بچے موجود ہیں تو شادی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے؟

عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ دو ہائی کورٹس پہلے ہی ایسے شخص کو ڈومیسائل دینے کی ہدایت دے چکی ہیں، جبکہ ماضی میں افغان شہریوں کو پاکستان آنے کی اجازت بھی دی گئی تھی۔

سپریم کورٹ نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ اگر ملزم کے پاس کوئی شناختی دستاویز موجود نہیں تو اسے افغان شہری قرار دینے کی بنیاد کیا ہے؟

بعد ازاں عدالت نے افغان شہری کی 20 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔