مردان: سرکاری اداروں میں اکثر اصلاحات کی بات تو بہت ہوتی ہے، لیکن ایسی مثالیں کم ملتی ہیں جہاں ایک افسر اپنی انتظامی صلاحیت، وژن اور عوامی اعتماد کی بدولت ادارے کی شناخت ہی بدل دے۔ تعلیمی حلقوں میں پروفیسر جہان زیب کا نام انہی شخصیات میں لیا جاتا ہے، جنہوں نے گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط اپنے کیریئر میں جہاں بھی ذمہ داری سنبھالی، وہاں اصلاحات، جدیدیت اور ادارہ سازی کو اپنی پہچان بنایا۔
انگریزی ادب اور اپلائیڈ لسانیات کے پروفیسر کی حیثیت سے تدریسی سفر شروع کرنے والے پروفیسر جہان زیب نے بطور شعبہ جاتی سربراہ، وائس پرنسپل، پرنسپل اور اب اکتوبر 2024 سے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن مردان کے چیئرمین کی حیثیت سے اپنی انتظامی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔
فضل حق کالج میں تبدیلی کی بنیاد
بطور پرنسپل دی فضل حق کالج مردان انہوں نے ادارے میں کئی تاریخی اقدامات کیے۔ کیمبرج اسکول سسٹم اور اے لیول پروگرام کا آغاز، گرلز اسکول کی اپ گریڈیشن، کوالٹی اشورنس سیل (QAC) کا قیام، مکمل ڈیجیٹل اسکول مینجمنٹ سسٹم، تقریباً 110 ملازمین کی ترقی اور اپ گریڈیشن، مالی استحکام، مختلف قومی اداروں کے ساتھ شراکت داری اور وسیع شجرکاری مہم جیسے اقدامات نے ادارے کو جدید تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
مردان بورڈ میں شفافیت کی نئی روایت
چیئرمین بی آئی ایس ای مردان کا منصب سنبھالنے کے بعد پروفیسر جہان زیب نے اپنی توجہ امتحانی نظام کی ساکھ بحال کرنے پر مرکوز رکھی۔ ان کی قیادت میں جدید ICT کنٹرول روم قائم کیا گیا، CCTV نگرانی کو مؤثر بنایا گیا، نقل کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی اور امتحانی مراکز کی مسلسل نگرانی کو یقینی بنایا گیا۔
ڈیجیٹل تبدیلی اور جدید سوچ
پروفیسر جہان زیب نے بورڈ میں ڈیجیٹل اصلاحات کو بھی تیز کیا۔ IBCC کے ساتھ آن لائن سرٹیفکیٹ ویری فکیشن کے معاہدے، محفوظ ڈیجیٹل ریکارڈ، جدید ڈیٹا مینجمنٹ، آن لائن سروسز اور مستقبل میں ڈیجیٹل پیپر بینک، ای مارکنگ اور AI پر مبنی امتحانی نظام کی حمایت ان کے وژن کا حصہ ہیں، جس کا مقصد امتحانی نظام کو مزید شفاف، تیز رفتار اور عالمی معیار سے ہم آہنگ بنانا ہے۔
ادارہ ہی نہیں، لوگ بھی اہم ہیں
پروفیسر جہان زیب کی قیادت کی ایک نمایاں خصوصیت ملازمین کی فلاح پر توجہ بھی رہی۔ دیرینہ سروس معاملات کے حل، ترقیوں اور اپ گریڈیشن کے اقدامات نے ملازمین کا اعتماد بڑھایا۔ حالیہ دنوں بورڈ ملازمین کی جانب سے ان کا پرتپاک استقبال اور پھول نچھاور کرنا اسی اعتماد اور احترام کا اظہار تھا، جسے تعلیمی حلقوں نے ایک منفرد روایت قرار دیا۔
تعلیم کے ساتھ شجرکاری
پروفیسر جہان زیب کی شخصیت کا ایک اور نمایاں پہلو ماحول دوستی اور شجرکاری سے ان کی گہری وابستگی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ تعلیمی ادارے صرف علم کے مراکز نہیں بلکہ ایسی جگہیں بھی ہیں جہاں طلبہ میں ماحول کے تحفظ اور سماجی ذمہ داری کا شعور پیدا کیا جا سکتا ہے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اپنے مختلف ادوارِ قیادت میں دی فضل حق کالج، بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن مردان، بورڈ اسپورٹس کمپلیکس اور دیگر تعلیمی اداروں میں لاکھوں پودے لگانے کی مہمات کی قیادت کی۔ ان کی زیرِ نگرانی شجرکاری صرف ایک رسمی سرگرمی نہیں رہی بلکہ اسے ادارہ جاتی ثقافت کا حصہ بنایا گیا، تاکہ سرسبز اور صاف ماحول کے ساتھ طلبہ میں قدرتی وسائل کے تحفظ کا احساس بھی اجاگر ہو۔ ان کے قریبی ساتھیوں کے مطابق پروفیسر جہان زیب ہمیشہ "گرین پاکستان" کے تصور کے عملی داعی رہے ہیں اور جہاں بھی انہیں موقع ملا، انہوں نے شجرکاری اور ماحول دوست سرگرمیوں کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا۔
قیادت جو اپنی مثال خود بن گئی
برطانیہ اور سری لنکا کے تعلیمی نظام کا مطالعہ، اعلیٰ تعلیم میں 23 سال سے زائد تجربہ، اساتذہ کی تربیت، ادارہ جاتی اصلاحات، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، امتحانی شفافیت اور جدید تعلیمی سوچ—یہ تمام پہلو پروفیسر جہان زیب کی پیشہ ورانہ شناخت کا حصہ ہیں۔
شاید اسی لیے آج تعلیمی حلقوں میں پروفیسر جہان زیب کا نام صرف ایک چیئرمین یا پرنسپل کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسے تعلیمی منتظم کے طور پر لیا جاتا ہے جس نے اداروں کو مضبوط بنایا، نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا اور اپنی قیادت سے لوگوں کا اعتماد جیتا۔
جب کسی افسر کی پہچان اس کے عہدے سے نہیں بلکہ اس کی کارکردگی، اصلاحات اور لوگوں کے دلوں میں پیدا ہونے والے اعتماد سے ہونے لگے... تو پھر لوگ بے اختیار یہی کہتے ہیں...
"افسر ہو تو ایسا۔"






