افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارتِ حج و اوقاف نے شادی اور منگنی کی تقریبات کے لیے نیا ضابطہ اخلاق جاری کرتے ہوئے متعدد رسومات اور سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، جن میں دلہن کا میک اپ، خواتین کا پرفیوم استعمال کرنا، شادی کی انگوٹھیوں کا تبادلہ، موسیقی، رقص اور آتش بازی شامل ہیں۔

وزارت کی جانب سے جاری کی گئی 10 صفحات پر مشتمل ہدایات میں کہا گیا ہے کہ شادی بیاہ اور دیگر تقریبات اسلامی تعلیمات کے مطابق منعقد کی جائیں اور ان رسومات سے اجتناب کیا جائے جو شریعت کے منافی یا غیر اسلامی روایات سے مشابہ سمجھی جاتی ہیں۔

دستاویز کے مطابق منگنی کے دوران انگوٹھیوں کا تبادلہ، مہندی کی بعض عوامی رسومات، آتش بازی، خواتین کا تنگ یا جسم نمایاں کرنے والا لباس پہننا اور دلہن کا کاسمیٹکس یا میک اپ استعمال کرنا غیر مناسب قرار دیا گیا ہے۔

ہدایات میں کہا گیا ہے کہ گھر سے باہر خواتین کا خوشبو یا پرفیوم استعمال کرنا بھی مذہبی اعتبار سے جائز نہیں، جبکہ شادیوں میں موسیقی اور مرد و خواتین کے مخلوط رقص کو بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

طالبان حکومت کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد شادیوں کو اسلامی اصولوں کے مطابق بنانا اور ایسی رسومات کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جنہیں غیر اسلامی یا مغربی ثقافت سے متاثر سمجھا جاتا ہے۔

یہ نئی ہدایات طالبان کی جانب سے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد نافذ کی جانے والی سماجی اور مذہبی پابندیوں کے سلسلے کی تازہ کڑی سمجھی جا رہی ہیں، جن کا زیادہ تر اثر خواتین کی سماجی زندگی پر پڑ رہا ہے۔