سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ مئی 2024 میں آنے والے شدید شمسی طوفان کے دوران زمین کے اندرونی تابکاری خطے میں انتہائی توانائی والے الیکٹرانز کی تعداد میں 5 ہزار گنا سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

یہ انکشاف 26 اکتوبر 2026 کو سائنسی جریدے ’’جیوفزیکل ریسرچ لیٹرز‘‘ میں شائع ہونے والی تحقیق میں کیا گیا۔ ان انتہائی توانائی والے ذرات کو سیٹلائٹس کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت کے باعث ’’کِلر الیکٹرانز‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

زمین کا مقناطیسی میدان خلا سے آنے والے برقی چارج رکھنے والے ذرات کے خلاف قدرتی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ زمین کے گرد تابکاری کے دو بڑے خطے موجود ہیں، جنہیں وان ایلن ریڈی ایشن بیلٹس کہا جاتا ہے۔

ان میں اندرونی پٹی میں زیادہ تر توانائی والے پروٹونز جبکہ بیرونی پٹی میں بڑی تعداد میں الیکٹرانز موجود ہوتے ہیں۔ سائنس دانوں کا خیال تھا کہ اندرونی پٹی ایک مضبوط رکاوٹ کا کام کرتی ہے اور انتہائی توانائی والے الیکٹرانز کو زمین کے قریب آنے سے روکتی ہے۔

تاہم مئی 2024 کے شمسی طوفان نے اس تصور کو چیلنج کر دیا۔

تحقیق کے مطابق اس طوفان کو جیو میگنیٹک پیمانے پر جی 5 کی درجہ بندی دی گئی تھی، جو اس پیمانے کی شدید ترین سطح ہے۔ اس کے نتیجے میں زمین کے گرد موجود پلازماسفیئر میں سرد پلازما کی مقدار نمایاں طور پر کم ہوئی۔

اس تبدیلی نے برقی مقناطیسی لہروں کو الیکٹرانز کی توانائی بڑھانے کے لیے سازگار حالات فراہم کیے۔

جاپان کی ناگویا یونیورسٹی سے وابستہ محققین نے ایک جاپانی سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ کیا، جو 2017 سے زمین کے گرد تابکاری کی پٹیوں کی نگرانی کر رہا ہے۔

مشاہدات کے مطابق تقریباً 3 میگا الیکٹران وولٹ توانائی رکھنے والے الیکٹرانز کی تعداد شمسی طوفان سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 5 ہزار گنا سے زیادہ بڑھ گئی۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ بتدریج ہوا۔ پہلے کم توانائی والے الیکٹرانز کی تعداد بڑھی اور اس کے بعد اگلے 24 گھنٹوں میں زیادہ توانائی والے ذرات سامنے آئے۔

ان ذرات کی زیادہ مقدار سیٹلائٹس کے حساس الیکٹرانک آلات کو نقصان پہنچا سکتی ہے، ان کی کارکردگی متاثر کر سکتی ہے اور ان کی عمر کم کر سکتی ہے۔ خلا میں موجود خلابازوں کو بھی اضافی تابکاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ان ذرات کی سطح کئی ماہ تک بلند رہی اور جاپانی سیٹلائٹ نے اکتوبر 2024 تک ان کی موجودگی ریکارڈ کی۔

سائنس دانوں کے مطابق یہ نتائج خلائی موسم کی پیش گوئی بہتر بنانے اور مستقبل میں سیٹلائٹس، خلائی جہازوں اور خلابازوں کو تابکاری کے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔