برطانوی اخبار ڈیلی میل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی اداکارہ میگھن مارکل کے والد تھامس مارکل کے نام پر میکسیکو کے ساحلی شہر روساریتو میں کرائے پر لیے گئے ایک گودام سے کم عمر لڑکیوں کی نازیبا تصاویر، رسائل اور دیگر مشتبہ مواد ملا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تھامس مارکل نے یہ گودام 2017ء میں کرائے پر لیا تھا اور مبینہ طور پر گزشتہ دو برس سے اس کا کرایہ ادا نہیں کیا جا رہا تھا۔ اخبار کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ گودام میں تصاویر کے نیگیٹو، تقریباً 50 ویڈیو ٹیپس، کمپیوٹر، کتابیں اور ہارڈ ڈرائیو سے ڈیٹا مٹانے سے متعلق مواد بھی موجود تھا۔
اخبار کے مطابق بعض تصاویر میں کم عمر لڑکیاں دکھائی گئی ہیں، جبکہ ایک تصویر میں تھامس مارکل بھی ایک لڑکی کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ تاہم ویڈیو ٹیپس کے اندر موجود مواد کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ڈیلی میل کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے انکشافات سے امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے کو آگاہ کر دیا ہے۔ رپورٹ میں تھامس مارکل کے خلاف بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد رکھنے کے الزامات کی تحقیقات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب میگھن مارکل کی ایک قریبی دوست نے امریکی جریدے پیپل کو بتایا تھا کہ وہ اپنے والد کے خلاف سامنے آنے والے الزامات پر شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ دوست کے مطابق، اپنے بچوں کی وجہ سے بھی یہ معاملہ میگھن کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔
تاحال فراہم کردہ رپورٹ میں ان الزامات کے عدالتی طور پر ثابت ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ اس لیے سامنے آنے والی تفصیلات کو اخبار سے منسوب الزامات اور رپورٹ شدہ انکشافات کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔





