ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق قطر کی ثالثی میں دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کا نیا دور مکمل ہو گیا ہے اور فریقین کو تجاویز پر مبنی ایک نیا مسودہ پہنچا دیا گیا ہے۔

رائٹرز کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ایرانی مذاکراتی وفد مذاکرات کے بعد دوحہ سے روانہ ہو گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وفد کی روانگی کو مذاکرات میں تعطل یا ناکامی کی علامت قرار نہیں دیا گیا۔ تاہم نئے مسودے کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق مذاکرات کی بنیاد ایران کا سات نکاتی منصوبہ ہے، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی اور پابندیاں ختم کرنے کے مطالبات شامل ہیں۔

بقائی نے کہا کہ ایران اپنے منصوبے پر تیزی سے عمل درآمد چاہتا ہے اور اس کے مطالبات واضح ہیں۔ ان کے مطابق امریکی بحری ناکہ بندی ختم کیے جانے اور ایران کے مطالبات تسلیم کیے جانے تک حتمی معاہدے اور آبنائے ہرمز کو محفوظ طریقے سے کھولنے میں مشکلات برقرار رہیں گی۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اس سے قبل اشارہ دیا تھا کہ نئے انتظام کے تحت آبنائے ہرمز کو دو دن میں کھولا جا سکتا ہے۔ تاہم اس تجویز اور مسودے کی حتمی منظوری کی تصدیق نہیں ہوئی۔

یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکی انتخابات کے بعد خطے میں فوجی کشیدگی بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ فی الحال نئے مسودے کے مندرجات اور کسی حتمی معاہدے کی منظوری کے بارے میں مکمل تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔