قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں جنوری 2025ء سے جون 2026ء تک 18 ماہ کے دوران 3,900 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی۔ ان اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں روزانہ اوسطاً 7 سے زائد بچوں میں وائرس کی تشخیص ہوئی۔
وزارتِ صحت کے مطابق متاثرہ بچوں میں سب سے زیادہ تعداد سندھ اور پنجاب کی ہے۔ سندھ میں 1,915 جبکہ پنجاب میں 1,765 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تخمینی تعداد 4 لاکھ 17 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، تاہم ان میں سے صرف 92 ہزار افراد رجسٹرڈ ہیں جبکہ تقریباً 68 ہزار مریض زیرِ علاج ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق آلودہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال، غیر محفوظ انتقالِ خون اور غیر جراثیم کش طبی آلات بچوں میں ایچ آئی وی پھیلنے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق وائرس متاثرہ ماں سے حمل، پیدائش یا دودھ پلانے کے دوران بھی بچے میں منتقل ہو سکتا ہے۔
وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 2010ء سے 2024ء کے دوران ایچ آئی وی کے سالانہ نئے انفیکشنز میں 200 فیصد اضافہ ہوا۔
ملک میں صحتِ عامہ کے اس مسئلے کے پیشِ نظر محفوظ طبی طریقۂ کار، جراثیم سے پاک آلات، محفوظ انتقالِ خون، بروقت تشخیص اور متاثرہ افراد کے علاج تک رسائی کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔





