گردے کی پیوندکاری کے بعد مریض کی صحت یابی اور نئے گردے کی حفاظت کے لیے مناسب خوراک انتہائی اہم ہوتی ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق سرجری کے بعد غذا کا خاص خیال رکھنے سے زخم جلد بھرنے، جسمانی طاقت بحال کرنے اور انفیکشن سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔
پیوندکاری کے فوراً بعد عموماً مریض کو مائع غذا دی جاتی ہے، جس کے بعد بتدریج نرم اور معمول کی خوراک شروع کی جاتی ہے۔ اس دوران جسم میں پانی، نمکیات اور توانائی کا توازن برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
پانی اور توانائی کی مناسب مقدار
سرجری کے بعد گھر واپسی پر مناسب مقدار میں پانی پینا اہم ہے۔ فراہم کردہ طبی معلومات کے مطابق روزانہ تقریباً دو لیٹر پانی کا استعمال مفید ہوسکتا ہے، تاہم اصل مقدار مریض کی طبی حالت اور ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ہونی چاہیے۔ کیفین والی اشیا کا زیادہ استعمال بھی محدود رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
جسمانی توانائی بحال رکھنے کے لیے گندم اور جَو جیسے ثابت اناج استعمال کیے جا سکتے ہیں، جبکہ کمزور ہاضمے کی صورت میں چاول اور سوجی جیسی ہلکی غذائیں مددگار ہوسکتی ہیں۔ چینی کا زیادہ استعمال بھی کم کرنا چاہیے، خصوصاً ان مریضوں میں جنہیں اسٹیرائڈ ادویات دی جا رہی ہوں۔
پروٹین اور نمکیات کا خیال
پیوندکاری کے بعد جسم کو صحت یابی کے لیے پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے۔ دالیں، پنیر، انڈے، مچھلی اور چکن پروٹین کے اچھے ذرائع ہیں۔ دودھ اور دیگر غذائیں بھی کیلشیم فراہم کرسکتی ہیں، تاہم ان کا استعمال مریض کے ٹیسٹ اور طبی حالت کے مطابق ہونا چاہیے۔
مریض کے خون میں پوٹاشیم اور سوڈیم کی مقدار پر نظر رکھنا بھی ضروری ہے۔ انفیکشن سے بچنے کے لیے کچی یا غیر محفوظ غذاؤں، مثلاً اچھی طرح نہ دھلے سلاد، پھلوں اور کچے اسپروٹس سے پرہیز کا مشورہ دیا گیا ہے۔
انار اور گریپ فروٹ سے احتیاط
انار اور گریپ فروٹ بعض مدافعتی ادویات کے ساتھ اثرات پیدا کرسکتے ہیں، اس لیے انہیں استعمال کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
طویل مدت میں کن چیزوں سے بچیں؟
طویل مدت میں مریض کو وزن، شوگر، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول قابو میں رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تازہ پھلوں، سبزیوں اور متوازن غذا کو ترجیح دینی چاہیے، جبکہ ڈبہ بند کھانوں، کولڈ ڈرنکس اور زیادہ پراسیس شدہ اشیا کا استعمال محدود رکھنا بہتر ہے۔
ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے کیلشیم اور فاسفورس فراہم کرنے والی غذائیں بھی اہم ہیں، لیکن ان کی مقدار بھی طبی ٹیسٹ کے مطابق طے ہونی چاہیے۔
ماہرین کے مطابق باقاعدہ طبی معائنے، ماہر غذائیت کی رہنمائی، ہلکی ورزش، سگریٹ نوشی سے مکمل پرہیز اور ذہنی دباؤ میں کمی نئے گردے کی حفاظت اور بہتر زندگی کے لیے اہم ہیں۔





