امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جنگ کے حوالے سے اپنے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کی کارکردگی پر مشیروں سے رائے طلب کی ہے۔ امریکی جریدے دی اٹلانٹک کی رپورٹ کے مطابق اس مشاورت کے بعد دونوں عہدیداروں کے مستقبل سے متعلق قیاس آرائیاں سامنے آئی ہیں۔

رپورٹ میں صدر ٹرمپ کے قریبی مشیروں اور باخبر شخصیات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صدر نے ہیگسیتھ کی کارکردگی اور جنگی حکمتِ عملی کے بارے میں سوالات کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انہیں عہدے سے ہٹانے کے امکان پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ جنرل ڈین کین کی کارکردگی کے بارے میں بھی صدر نے مشیروں سے رائے طلب کی۔

دی اٹلانٹک کے مطابق یہ مشاورت امریکی انتظامیہ میں ممکنہ تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے، تاہم دونوں عہدیداروں کو عہدوں سے ہٹانے کا کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران جنگ کے دوران ہیگسیتھ اور جنرل ڈین کین صدر کو فوجی حکمتِ عملی سے متعلق مشورے دیتے رہے ہیں۔ ٹرمپ مبینہ طور پر انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملے کرنے یا جنگ ختم کرنے سمیت مختلف امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ان میں چند روز سے کئی ہفتوں تک فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کے منصوبے بھی شامل بتائے گئے ہیں۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے دی اٹلانٹک کو بتایا کہ صدر ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کو وزیرِ دفاع اور جنرل ڈین کین کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں عہدیدار صدر کے مشن کے ساتھ مکمل ہم آہنگ ہیں۔

یوں دونوں عہدیداروں کو ہٹائے جانے کی اطلاعات فی الحال رپورٹ میں بیان کردہ مشاورت اور امکانات تک محدود ہیں، جبکہ وائٹ ہاؤس نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔