برطانوی ماہرِ طبیعیات اور سائنس کمیونی کیٹر پروفیسر جم الخلیلی نے ان ارب پتی شخصیات کی کوششوں پر سوال اٹھایا ہے جو عمر بڑھنے کے عمل کو روکنے یا انسانی زندگی کو غیر معمولی حد تک طول دینے پر توجہ دے رہی ہیں۔ ان کے مطابق انسان کو ہمیشہ زندہ رہنے کی کوشش کے بجائے اپنے محدود وقت کو بہتر انداز میں گزارنے پر توجہ دینی چاہیے۔

جم الخلیلی اس سال رائل انسٹی ٹیوشن کی کرسمس لیکچرز میں وقت کی نوعیت، اس کی سمت اور وقت کے سفر جیسے موضوعات پر گفتگو کریں گے۔ رائل انسٹی ٹیوشن کے مطابق ان لیکچرز میں آئن اسٹائن کے نظریۂ اضافیت سمیت جدید طبیعیات کے ذریعے وقت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے گی۔

ماہرِ طبیعیات کے مطابق آئن اسٹائن کے نظریات نے وقت کے بارے میں روایتی تصور کو تبدیل کیا۔ رفتار اور کششِ ثقل کے اثرات کے باعث مختلف حالات میں گھڑیوں کے چلنے کی رفتار مختلف ہو سکتی ہے، یعنی کائنات میں وقت کے گزرنے کے لیے کوئی ایک عالمگیر رفتار موجود نہیں۔

جم الخلیلی ماضی اور مستقبل میں وقت کے سفر کے امکانات پر بھی بات کریں گے۔ ان کے مطابق ماضی میں سفر ریاضیاتی طور پر بعض حالات میں قابلِ تصور ہے، تاہم اس کے ساتھ پیچیدہ تضادات اور مسائل پیدا ہوتے ہیں، جبکہ مستقبل کی جانب سفر نظریاتی طور پر نسبتاً زیادہ قابلِ فہم ہے۔

وہ "Arrow of Time" یعنی وقت کے صرف ایک سمت میں آگے بڑھنے کے مسئلے کو بھی اپنے لیکچرز میں زیرِ بحث لائیں گے۔ الخلیلی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس سائنسی معمے کی ایک وضاحت تلاش کر لی ہے جسے وہ رائل انسٹی ٹیوشن کے لیکچرز میں پیش کریں گے۔

رائل انسٹی ٹیوشن کے مطابق 2026 کے کرسمس لیکچرز میں یہ بھی زیرِ بحث آئے گا کہ کیا ماضی، حال اور مستقبل بیک وقت کسی خاص معنوں میں موجود ہو سکتے ہیں، کیا وقت بگ بینگ سے پہلے موجود تھا اور انسان مستقبل میں سفر کر سکتا ہے یا نہیں۔