وفاقی حکومت نے ملک میں گاڑیوں کی صنعت کو ترقی دینے، مقامی گاڑیوں کی قیمتوں میں بتدریج کمی لانے اور برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنے کے لیے نئی آٹو پالیسی متعارف کرا دی ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت ہارون اختر کے مطابق نئی پالیسی کا نفاذ 7 نومبر سے ہو گیا ہے۔
اسلام آباد میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ہارون اختر نے کہا کہ حکومت چھوٹی گاڑیوں کو سستا کرنا چاہتی ہے اور ایک ہزار سی سی سے کم گاڑیوں پر کوئی اضافی ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا۔
نئی پالیسی کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ ان گاڑیوں کی فنانسنگ کی حد 20 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کر دی گئی ہے، جبکہ انہیں مختلف ٹیکسوں میں بھی رعایت دی گئی ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فیصد ٹیکس کے معاملے پر عالمی مالیاتی فنڈ سے بات چیت جاری ہے۔
حکومت نے آئندہ پانچ برس میں ملک کی 30 فیصد گاڑیوں کو الیکٹرک ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ حکام کو توقع ہے کہ یہ ہدف مقررہ مدت سے پہلے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ہارون اختر کے مطابق پاکستان کی گاڑیوں کی موجودہ برآمدات تقریباً 20 کروڑ ڈالر ہیں، جنہیں نئی پالیسی کے تحت بڑھا کر 6 ارب ڈالر تک پہنچانے کا منصوبہ ہے۔ برآمدی اہداف پورے نہ کرنے والی مقامی گاڑیاں ساز کمپنیوں پر جرمانے عائد کیے جائیں گے۔
پالیسی میں گاڑیوں کے معیار اور حفاظت کو بہتر بنانے کے لیے 45 نئے حفاظتی معیارات اور خصوصیات بھی شامل کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی بھی کمپنی گاڑی کی قیمت کا 20 فیصد سے زیادہ پیشگی وصول نہیں کر سکے گی۔
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ نئی پالیسی کا مقصد گاڑیوں کی مقامی صنعت کو مضبوط بنانا، درآمدی بل کم کرنا اور عام شہریوں کو سستی اور معیاری گاڑیاں فراہم کرنا ہے۔ ان کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے تیل کی درآمدات اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔





