آج ہر مسافر طیارے میں نصب بلیک باکس فضائی حادثات کی تحقیقات میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس اہم ایجاد کا خیال ایک آسٹریلوی سائنسدان کو 1950 کی دہائی میں پیش آنے والے طیاروں کے پراسرار حادثات کے بعد آیا تھا؟
1954 میں دنیا کے پہلے تجارتی جیٹ مسافر طیارے ڈی ہیولینڈ کومٹ کو پے در پے فضائی حادثات کا سامنا کرنا پڑا۔ دو کومٹ طیارے فضا میں ٹوٹ کر تباہ ہوگئے، جس کے بعد ہوا بازی کے ماہرین کے لیے ان حادثات کی وجوہات معلوم کرنا ایک بڑا چیلنج بن گیا۔
ان حادثات کی تحقیقات کے دوران یہ بات شدت سے محسوس کی گئی کہ اگر طیارے کی پرواز کے دوران ہونے والی گفتگو، تکنیکی معلومات اور مختلف حرکات کا ریکارڈ موجود ہوتا تو حادثے کی اصل وجہ معلوم کرنے میں مدد مل سکتی تھی۔
اسی پس منظر میں آسٹریلوی سائنسدان ڈیوڈ وارن کے ذہن میں ایک ایسی مشین بنانے کا خیال آیا جو طیارے کے کاک پٹ میں ہونے والی گفتگو اور پرواز سے متعلق اہم معلومات محفوظ کرسکے۔
وارن نے آسٹریلیا کی ایروناٹیکل ریسرچ لیبارٹریز میں اس تصور پر کام شروع کیا۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں فلائٹ ریکارڈر کی ابتدائی شکل سامنے آئی، جس نے بعد میں جدید بلیک باکس کی ترقی کی بنیاد رکھی۔
بلیک باکس دراصل دو اہم ریکارڈنگ نظاموں پر مشتمل ہوتا ہے۔ فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر طیارے کی رفتار، بلندی، سمت اور دیگر تکنیکی معلومات محفوظ کرتا ہے، جبکہ کاک پٹ وائس ریکارڈر پائلٹس اور عملے کی گفتگو اور کاک پٹ میں آنے والی آوازیں ریکارڈ کرتا ہے۔
آج دنیا بھر میں فضائی حادثات کی تحقیقات کے لیے بلیک باکس سے حاصل ہونے والی معلومات انتہائی اہم سمجھی جاتی ہیں۔ یوں 1950 کی دہائی میں پیش آنے والے چند پراسرار فضائی حادثات نے ہوا بازی کی تاریخ میں ایک ایسی ایجاد کی بنیاد رکھی جس نے فضائی سفر کو مزید محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ ایجاد آسٹریلوی سائنسدان ڈیوڈ وارن کی سوچ اور تحقیق کا نتیجہ تھی، جنہیں جدید بلیک باکس کے تصور کا بانی تسلیم کیا جاتا ہے۔





