سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان ایران پہنچ گئے ہیں، جہاں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیے کے اعلیٰ حکام ایرانی قیادت کے ساتھ علاقائی سلامتی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال پر بات چیت کر رہے ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق سعودی وزیر دفاع کا طیارہ تہران کے مہرآباد ہوائی اڈے پر اترا۔ سعودی وزیر دفاع اس ملاقات میں اپنے ملک کے وفد کی قیادت کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان کی نمائندگی چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکیے کی نمائندگی انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ ابراہیم قالن کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز اور الجزیرہ کے مطابق، یہ ملاقات مکہ دفاعی معاہدے کے تینوں رکن ممالک اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران اعلیٰ سطح کا اہم رابطہ ہے۔ بات چیت میں علاقائی سلامتی، ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی، یمن کے حوثیوں کے حملوں اور خطے میں تنازعات کو مزید پھیلنے سے روکنے کے امکانات زیرِ بحث آنے کی توقع ہے۔

سعودی حکام کے مطابق اس دورے کا مقصد کشیدگی کم کرنے، مکالمے اور سفارتی حل کو فروغ دینے اور پاکستان و قطر کی ثالثی کوششوں کی حمایت کرنا ہے۔ ایرانی حکام نے بھی علاقائی ممالک کے درمیان سلامتی کے مشترکہ طریقۂ کار پر تعاون کی امید ظاہر کی ہے۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب خطے میں فوجی کشیدگی بڑھ رہی ہے اور سعودی عرب کو یمن کے حوثیوں کے حملوں کا سامنا ہے۔ تاہم، مذاکرات کے حتمی نتائج یا کسی نئے معاہدے کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔