اسرائیل کی سیاست میں بنجمن نیتن یاہو کو ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے، جہاں سابق آرمی چیف گادی آئزن کوٹ اپنی جماعت یاشار کے ساتھ وزارتِ عظمیٰ کی دوڑ میں اہم امیدوار بن کر سامنے آئے ہیں۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق، رائے عامہ کے جائزوں میں ان کی جماعت کو نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ پر برتری حاصل ہے۔

آئزن کوٹ نے اسرائیلی فوج میں 41 سال خدمات انجام دیں اور 2015 سے 2019 تک فوج کے سربراہ رہے۔ ان کی سیاسی شناخت کا ایک اہم پہلو غزہ کی جنگ میں ان کے خاندان کی قربانیاں ہیں، جہاں ان کا ایک بیٹا اور دو بھتیجے ہلاک ہو چکے ہیں۔

حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد آئزن کوٹ نے نیتن یاہو کی جنگی کابینہ میں مبصر کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی، لیکن تقریباً آٹھ ماہ بعد حکومتی حکمتِ عملی سے اختلاف کرتے ہوئے کابینہ چھوڑ دی۔ ان کے مطابق، اسرائیل حماس کی فوجی اور حکومتی طاقت ختم کرنے کے اپنے مقررہ ہدف کو حاصل نہیں کر سکا۔

تاہم، نیتن یاہو کی مخالفت کا مطلب یہ نہیں کہ آئزن کوٹ فلسطینیوں کے معاملے پر نرم مؤقف رکھتے ہیں۔ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کے مخالف ہیں اور دریائے اردن سے بحیرہ روم تک اسرائیل کو سکیورٹی کے معاملات پر حتمی اختیار دینے کے حامی ہیں۔ وہ حماس کی فوجی طاقت ختم کرنے اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کو بھی اپنی اہم ترجیحات قرار دیتے ہیں۔

مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کے معاملے پر بھی ان کا مؤقف محتاط مگر سخت ہے۔ وہ قانونی طور پر اور اسرائیل کے قومی مفادات کے مطابق آبادکاری کی حمایت کرتے ہیں، تاہم یہودی آبادکاروں کے تشدد اور بعض متنازعہ بستیوں کے منصوبوں کی مخالفت کر چکے ہیں۔

اس کے باوجود آئزن کوٹ کے لیے وزارتِ عظمیٰ تک پہنچنا آسان نہیں ہوگا۔ اسرائیل کے پارلیمانی نظام میں حکومت بنانے کے لیے مختلف جماعتوں کی حمایت اور اکثریت حاصل کرنا ضروری ہے۔ عرب اسرائیلی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے بارے میں ان کے مؤقف کی وجہ سے حکومت سازی کا عمل مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

یوں آئزن کوٹ کی انتخابی مہم اسرائیلی قیادت میں تبدیلی کی امید ضرور پیدا کرتی ہے، لیکن فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت اور سخت سکیورٹی پالیسی یہ سوال بھی اٹھاتی ہے کہ کیا ان کی کامیابی سے اسرائیل کی بنیادی پالیسیوں میں واقعی کوئی بڑی تبدیلی آئے گی؟