ایران نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے صوبے سیستان و بلوچستان میں حالیہ بدامنی کے پیچھے دو عرب ممالک کے ملوث ہونے کے آثار موجود ہیں۔ ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن فدا حسین مالکی کے مطابق علاقے میں جدید آلات اور ماہر اہلکار بھیجنے کے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم انہوں نے ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے۔
بی بی سی اردو کے مطابق فدا حسین مالکی نے ایرانی خبر رساں ادارے ایلنا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرحدی علاقوں میں مسلح گروہوں کی سرگرمیوں اور بدامنی کے واقعات کو محض الگ تھلگ سکیورٹی مسائل کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان کے مطابق ان واقعات کے سیاسی، سماجی اور علاقائی پہلوؤں کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔
ایرانی رکنِ پارلیمان نے خدشہ ظاہر کیا کہ بیرونی عناصر جنگی حالات سے فائدہ اٹھا کر خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ تاہم، دو عرب ممالک کے مبینہ کردار سے متعلق ان کے دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی صوبے سیستان و بلوچستان میں حالیہ ہفتوں کے دوران مسلح حملوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق 12 اکتوبر کو مہرستان میں دو الگ الگ حملوں کے دوران خواتین کی بسیج فورس کی ایک کمانڈر اور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ رپورٹس کے مطابق ایک حملے میں پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ زخمی ہونے والا پولیس اہلکار بعد میں دم توڑ گیا۔
اس سے قبل 8 اکتوبر کو صوبائی پولیس کمان کے نائب سربراہ برائے ثقافتی و سماجی امور نصرت افتخاری زاہدان میں چشمہ زیارت جانے والے راستے پر سڑک کنارے نصب بم کے دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
سیستان و بلوچستان ایران کا ایک اہم سرحدی صوبہ ہے جہاں ماضی میں بھی مسلح گروہوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔ حالیہ واقعات کے تناظر میں ایرانی حکام بیرونی مداخلت کے امکان کی تحقیقات کر رہے ہیں، تاہم فدا حسین مالکی کے بیان میں جن دو عرب ممالک کا ذکر کیا گیا، ان کی شناخت تاحال سامنے نہیں آئی۔





