کراچی: فارما ایشیا 2026 میں صحت اور ادویات سازی کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ چند دہائیوں کے دوران اوسط متوقع عمر میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ جدید ادویات تک رسائی، عالمی معیار کی منظوری اور بائیوٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری ملک کے صحت کے شعبے کو مزید بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
کانفرنس میں نیوٹرو فارما کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر حمید رضا نے دعویٰ کیا کہ 1999ء سے 2026ء کے دوران پاکستانیوں کی اوسط متوقع عمر میں تقریباً 10 سال اضافہ ہوا، جس کی وجوہات میں ادویات تک بہتر رسائی اور ان کا استعمال شامل ہیں۔
تاہم، عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اوسط متوقع عمر 1990ء میں تقریباً 59 سال 7 ماہ تھی، جو 2024ء میں بڑھ کر 67 سال 8 ماہ ہو گئی۔ اس طرح ان اعداد و شمار کے مطابق 34 سال میں تقریباً 8 سال کا اضافہ ہوا۔
پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین ڈاکٹر فیصل کھوکھر نے بتایا کہ ایک اور پاکستانی دوا ساز کمپنی کو اگلے سال سخت بین الاقوامی ریگولیٹری معیار رکھنے والے ادارے کی منظوری ملنے کی توقع ہے۔ ان کے مطابق، اس پیش رفت سے پاکستانی ادویات کو امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، جاپان، کینیڈا اور آسٹریلیا جیسی منڈیوں تک پہنچانے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
ماہرین نے کہا کہ بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے سے پاکستانی دوا ساز کمپنیوں پر عالمی اعتماد میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاری اور جدید پیداواری ٹیکنالوجی کے حصول کے مواقع پیدا ہوں گے۔
کانفرنس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ادویات سازی کے شعبے میں جدید مشینری، پیداواری سہولتوں اور تحقیق کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ضروری ہے۔ صرف بینکوں سے قرض لے کر اس صنعت کی تمام ضروریات پوری کرنا مشکل ہو سکتا ہے، اس لیے نجی سرمایہ کاری اور وینچر کیپیٹل کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
ماہرین نے بائیوٹیکنالوجی کو پاکستان کے لیے ایک اہم موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو جدید حیاتیاتی ادویات کی تیاری، مقامی پیداواری صلاحیت اور بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری پر توجہ دینی چاہیے۔
پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عدنان ہیرانی کے مطابق، فارما ایشیا 2026 کی تین روزہ نمائش میں تقریباً 800 اداروں نے شرکت کی، جبکہ 200 سے زائد غیر ملکی مندوبین بھی اس کا حصہ تھے۔ نمائش میں جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق، اگر پاکستان ادویات کے معیار، تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور پیداواری صلاحیت میں سرمایہ کاری بڑھاتا ہے تو اس سے نہ صرف دوا سازی کی صنعت کو ترقی مل سکتی ہے بلکہ مستقبل میں مریضوں کو جدید علاج کی فراہمی اور ادویات کی برآمدات کے امکانات بھی بہتر ہو سکتے ہیں۔





