پاکستان میں مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ گیا ہے اور ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 0.65 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 11.85 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
ادارہ شماریات پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران 19 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 12 اشیا سستی ہوئیں جبکہ 20 اشیا کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
رپورٹ کے مطابق ایل پی جی کی قیمت میں ایک ہفتے کے دوران 22.44 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مرغی کا گوشت 12.20 فیصد مہنگا ہوگیا۔ پیاز کی قیمت میں 4.19 فیصد اور آٹے کی قیمت میں ایک فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ شرٹنگ کپڑا، سادہ ڈبل روٹی، لہسن، جلانے کی لکڑی اور گھی بھی مہنگے ہوئے۔
دوسری جانب ٹماٹر کی قیمت میں 21.99 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ پیٹرول 3.63 فیصد اور ڈیزل 1.68 فیصد سستا ہوا۔ کیلے، آلو، دال چنا، انڈوں اور پاؤڈر دودھ کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی۔
سالانہ بنیادوں پر قیمتوں میں اضافے کے اعداد و شمار مزید تشویش ناک ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایل پی جی کی قیمت میں گزشتہ ایک سال کے دوران 107.12 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ پیاز 72.81 فیصد اور بجلی کے نرخ 58.59 فیصد بڑھ گئے۔ پیٹرول کی قیمت میں 44.17 فیصد اور ڈیزل میں 41.56 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی طرح مرغی کا گوشت گزشتہ سال کے مقابلے میں 38.99 فیصد اور آٹا 36.49 فیصد مہنگا ہوا، جبکہ مٹن، بیف، ڈبل روٹی اور تیار چائے کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔
تاہم سالانہ بنیادوں پر ٹماٹر 71.72 فیصد، آلو 40.75 فیصد اور چینی 25 فیصد سستی ہوئی۔ انڈوں کی قیمت میں بھی 22.14 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق بعض اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کے باوجود مجموعی مہنگائی میں اضافہ جاری ہے۔ ایل پی جی، بجلی، ایندھن اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے سے گھریلو بجٹ پر دباؤ برقرار ہے۔





