اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد بنیادی شرح سود 12 فیصد ہو گئی ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے اثرات مہنگائی اور ملکی معیشت پر پڑ رہے ہیں۔

گورنر جمیل احمد نے بتایا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جس سے ملکی بیرونی کھاتوں پر بھی دباؤ بڑھا ہے۔ ان کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی کے 10 میں سے 9 ارکان نے شرح سود میں اضافے کی حمایت کی۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ سال افراط زر کی شرح 7.1 فیصد رہی، جبکہ بنیادی افراط زر میں گزشتہ دو ماہ کے دوران بہتری دیکھی گئی۔ تاہم توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث مہنگائی کے خدشات برقرار ہیں۔

شرح سود میں اضافے کا مقصد مہنگائی کے دباؤ کو قابو میں رکھنا ہے، تاہم اس فیصلے سے قرضوں، کاروباری سرگرمیوں اور گھریلو مالی منصوبہ بندی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔