اسلام آباد: پاکستان نے مبینہ طور پر چین کی ون چائنا پالیسی کی حمایت میں تائیوان کی فضائی کمپنیوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں، جس کے بعد بعض پروازوں کو متبادل راستے اختیار کرنا پڑے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کا شعبۂ ہوابازی ون چائنا پالیسی پر عمل کرتا ہے اور پاکستانی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت صرف چینی فضائی کمپنیوں کو دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، تائیوان کی دو بڑی فضائی کمپنیوں، چائنا ایئرلائنز اور ایوا ایئر، کے طیارے 25 اکتوبر 2026ء کی صبح سے پاکستانی فضائی حدود سے نہیں گزرے۔ پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے اعداد و شمار کے مطابق، اتوار سے ایشیا اور یورپ کے درمیان ان کمپنیوں کی کم از کم 12 پروازوں نے پاکستان کے بجائے روسی فضائی حدود استعمال کیں۔
اس تبدیلی کے باعث بعض پروازوں کے دورانیے اور ایندھن کے اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، ہر پرواز کے لیے اضافی وقت یا لاگت کی تفصیلات رپورٹ میں نہیں دی گئیں۔
بلومبرگ کے مطابق، پاکستان کا یہ اقدام اپنی نوعیت کا پہلا قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندی چین کی اپنی پالیسی سے بھی زیادہ سخت دکھائی دیتی ہے، کیونکہ سرزمینِ چین تائیوانی فضائی کمپنیوں کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دیتا ہے۔
چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ تائیوان اپنی الگ حکومت کے تحت کام کرتا ہے۔ پاکستان 1951ء سے تائیوان کے ساتھ سرکاری سفارتی تعلقات نہیں رکھتا اور طویل عرصے سے تائیوان کے معاملے پر چین کے مؤقف کی حمایت کرتا آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، چائنا ایئرلائنز اور ایوا ایئر نے اس معاملے پر تبصرہ نہیں کیا، جبکہ تائیوان کی سول ایوی ایشن انتظامیہ نے پروازوں کے راستوں میں تبدیلی کی براہِ راست وضاحت نہیں کی۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ پاکستان نے یہ اقدام کس مخصوص وجہ سے اور کس مدت کے لیے کیا ہے۔ تاہم، اس فیصلے سے پاکستان اور چین کے قریبی تعلقات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی فضائی راستوں پر سفارتی پالیسی کے اثرات بھی نمایاں ہوئے ہیں۔





